اردو ادب

کیا کریں اس ملک میں ہر چیز کی ہڑتال ہے ۔ کلام عزیزی (دنیا ٹی وی)

  کس کمینے کی ہے سازش، کس چول کی چال ہے کیا کریں اس ملک میں ہر چیز کی ہڑتال ہے   لوڈشیڈنگ نے دئیے ہیں اس طرح کے رتجگے کوئی دوزخ میں بھی جائے گر تو گرمی نہ لگے میرے پیارے واپڈا کی بس یہی اوقات ہے چار گھنٹے لائٹ ہے اور پھر اندھیری رات ہے بدعا دے دے کر تالو خشک اور منہ لال ہے کیا کریں اس ملک میں ہر چیز کی ہڑتال ہے   بند سی این جی سٹیشن نہ ملے پٹرول ہی پڑ گیا ڈاکہ جہاں ناکہ تھا خاصا کول ہی دیکھ کر منظر سارا ہاتھ کیا ان کے ہلیں جن کہ پیٹی میں سے پسٹل کی جگہ سگریٹ ملیں ڈاکوؤں کو علم ہے سرکار اپنے نال ہے کیا کریں اس ملک میں ہر چیز کی ہڑتال ہے   کس قدر پہنچے ہوئے کہ بس زباں ان کی ہلے چائے پینے کے لئے دو چار ارب قرضہ ملے کون کہتا ہے سارا معاف کرواتے ہیں یہ جو کہیں تو چار پانچ سو واپس بھی لوٹاتے ہیں یہ اور پھر یہ بولتے ہیں گورنمنٹ کنگال ہے کیا کریں اس ملک میں ہر چیز کی ہڑتال ہے   گالیاں نکلیں زباں سے ہاتھ سے پتھر چلا نہ چلا تو ملک کا قانون نہ ان پر چلا چل گئے گھونسے، چپیڑیں اور اینٹیں چل گئیں کرسیاں تو چھوڑئیے، میک اپ کی کٹیں چل گئیں یہ اسمبلی ہے جہاں لوٹا بنا فٹبال ہے کیا کریں اس ملک میں ہر چیز کی ہڑتال ہے   جیب میں دھیلا نہیں اور چانپ کھانے کی لگن دوڑ جا تیرا یہاں کیا کام ہے بولا مٹن چھوڑ دے میری طلب کہنے لگا مرغ چمن تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن تیرے حصے میں فقط [...]

ایک ماں کا پیغام اپنے بچوں کے نام

بوڑھے ماں باپ کے حقوق کوئی قسمت والا ہی ادا کر سکتا ہے۔اکثر اوقات اولاد اپنی غفلت اور نادانی سے اس سعادت سے محروم رہ جاتی ہے. اسی غفلت سے بچنے کی طرف توجہ دلانے کے لئے یہ نظم  لکھی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کے حقوق اور اپنے فرائض سمجھنے کی توفیق دے آمین۔ میرے بچو،گر تم مجھ کو بڑھاپے کے حال میں دیکھو اُکھڑی اُکھڑی چال میں دیکھو مشکل ماہ و سال میں دیکھو صبر کا دامن تھامے رکھنا کڑوا ہے یہ گھونٹ پہ چکھنا ”اُف “ نہ کہنا،غصے کا اظہار نہ کرنا میرے دل پر وار نہ کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھ مرے گر کمزوری سے کا نپ اٹھیں اور کھانا،مجھ پر گر جائے تو مجھ کو نفرت سے مت تکنا،لہجے کو بیزار نہ کرنا بھول نہ جانا ان ہاتھوں سے تم نے کھانا کھانا سیکھا جب تم کھانا میرے کپڑوں اور ہاتھوں پر مل دیتے تھے میں تمہارا بوسہ لے کر ہنس دیتی تھی کپڑوں کی تبدیلی میں گر دیر لگا دوں یا تھک جاؤں مجھ کو سُست اور کاہل کہہ کر ، اور مجھے بیمار نہ کرنا بھول نہ جانا کتنے شوق سے تم کو رنگ برنگے کپڑے پہناتی تھی اک اک دن میں دس دس بار بدلواتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے یہ کمزور قدم گر جلدی جلدی اُٹھ نہ پائیں میرا ہاتھ پکڑ لینا تم ،تیز اپنی رفتار نہ کرنا بھول نہ جانا،میری انگلی تھام کے تم نے پاؤں پاؤں چلنا سیکھا میری باہوں کے حلقے میں گرنا اور سنبھلنا سیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب میں باتیں کرتے کرتے،رُک جاؤں ،خود کو دھراوں ٹوٹا ربط پکڑ نہ پاؤں،یادِ ماضی میں کھو جاؤں آسانی سے سمجھ نہ پاؤں،مجھ کو نرمی سے سمجھانا مجھ سے مت بے کار اُلجھنا،مجھے سمجھنا اکتاکر، گھبراکر مجھ کو [...]

سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں ( احمد فراز )

سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں تو اس کے شہر میں‌کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں‌اس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں‌کاکلیں اس کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی جو سادہ دل ہیں‌اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ امکاں میں پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں کہ اس شجر پہ شگوفے [...]

اردو شاعری : لا الہ الا اللہ از علاّمہ محمّد اقبال

خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ خودی ہے تیغ، فساں لا الہ الا اللہ یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الا اللہ کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا فریب سود و زیاں ، لا الہ الا اللہ یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند بتان وہم و گماں، لا الہ الا اللہ خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الہ الا اللہ یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں مجھے ہے حکم اذاں، لا الہ الا اللہ   کتاب:  ضربِ کلیم شاعر: علاّمہ محمّد اقبال

نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟

نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین دل ہے، حسین جان ہے حسین قرآن کی زبان ہے حسین سجدوں کی سرزمیں ہے حسین خیالوں کا آسمان ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین زخموں بھری کہانی حسین زخموں بھری جبیں ہے حسیں عظمت کا آستاں ہے اٹھا رہا ہے جو لاشہ اکبر حسین بوڑھا نہیں جوان ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین ایمان کی جستجو ہے حسین یزداں کی آبرو ہے حسین تنہا تھا کربلا میں حسین کا ذکر چار سو ہے حسین کا حوصلہ نہ پوچھو حسین لٹ کر بھی سرخرو ہے وہ دیکھو فوجوں کے درمیاں بھی حسین تنہا بھی ڈٹا ہوا ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین نکھرا ہوا قلندر حسین بپھرا ہوا سمندر حسین بستے دلوں کے آگے حسین اجڑے دلوں کے اندر خدا کی بخشش ہی خیمہ زن ہے حسین کی سلطنت کے اندر حسین آکاش کا نشیں ہے حسین دھرتی کی آتما ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ [pro-player width='600' height='370' type='mp4']http://www.mkmajeed.com/userfiles/flvs/mera_hussain.mp4[/pro-player]

سعادت حسن منٹو

سعادت حسن منٹو اردو ادب کے عظیم افسانہ نگار ، خاکہ نگار سعادت حسن منٹو 11مئی 1912کو موضع سمبرالہ ، ضلع لدھیانے میں پیدا ہو ئے ۔ سعادت حسن منٹو کے والد غلام حسن منٹو قوم اور ذات کے کشمیری امرتسر کے ایک محلے کوچہ وکیلاں میں ایک بڑے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کی پہلی بیوی جان بی بی سے ان کے چار لڑکے اور ایک لڑکی تھی۔ جان بی بی اختلال حواس کا شکار ہو گئی تھی، غلام حسن منٹو نے لاہور میں سردار بیگم سے دوسری شادی کر لی تھی۔ دوسری بیوی سے ان کے دو بچے تھے۔ اقبال بیگم اور سعادت حسن منٹو ۔ منٹو کے والد اس کی ولادت کے وقت سب جج کے عہدے پر تعینات تھے انہوں نے قبل از وقت 1918میں پینشن لے لی تھی.  منٹو کے جاننے والوں اور اس کے دوست اور سوانح نگار ابو سعید قریشی کے مطابق منٹو بچپن ہی سے ایک شیطان اور کھلنڈرا قسم کا لڑکا تھا جو اپنے دوستوں کو چونکانے کے لیے غیر معمولی شرارتیں کیا کرتا۔ دوست اسے ٹامی کے نام سے پکارتے تھے ۔منٹو اپنے گھر میں ایک سہما ہوا بچہ تھا۔ سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی وجہ سے اپنا آپ ظاہر نہ کر سکتا تھا۔ اس کی والدہ اس کی طرف دار تھی۔ ان حالات کے پیش نظر منٹو اپنی شخصیت ک اظہار باہر گلی کوچوں میں کرتا۔ وہ ابتدا ہی سے تعلیم کی طرف مائل نہیں تھا۔ اس کی ابتدائی تعلیم گھر میں ہوئی۔ 1921میں اسے ایم اے او مڈل سکول میں چوتھی جماعت میں داخل کرایا گيا۔ اس کا تعلیم کریئر حوصلہ ا‌فزا نہیں تھا۔ میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کےبعد اس نے 1931میں یہ [...]