متفرق مضامین

  • bbcurdu
    لیکن پھر استاد کون مانتا!!۔ از وسعت اللہ خان بی بی سی اردو لیکن پھر استاد کون مانتا!!۔ از وسعت اللہ خان بی بی سی اردو

    لیکن پھر استاد کون مانتا!!۔ از وسعت اللہ خان بی بی سی اردو

لیکن پھر استاد کون مانتا!!۔ از وسعت اللہ خان بی بی سی اردو

ایک عقل مند نے دوسرے عقل مند سے پوچھا کہ بگلا زندہ پکڑنے کی موثر ترکیب کیا ہے۔ بالاخر پیپلز پارٹی نے کشمیر اسمبلی کے لئے کراچی کی دو مخصوص نشستوں کو ایم کیو ایم کے لئے چھوڑ دیا۔ پہلے عقلمند نے کہا بہت ہی آسان ہے۔جب آپ بگلا دیکھیں تو کہنیوں کے بل رینگتے رینگتے ایک لمبا چکر کاٹ کر بگلے کے پیچھے پہنچیں تاکہ وہ ہوشیار نا ہوجائے۔ قریب پہنچتے ہی بگلے کے سر پر موم رکھ دیں۔موم سورج کی روشنی سے پگھل کر بگلے کی آنکھوں میں چلا جائے گا جس کے بعد وہ کچھ نہیں دیکھ پائےگا اور بے بس ہوجائے گا۔بس یہی وقت ہے کہ آپ اسے گردن سے زندہ پکڑ لیں۔ دوسرے عقلمند نے کہا کہ یار بات تو تمہاری ٹھیک ہے لیکن اگر میں بگلے کے قریب پہنچ ہی جاتا ہوں تو پھر سر پے موم کیوں رکھوں ۔سیدھے سیدھے اس کی گردن ہی کیوں نا پکڑ لوں۔ پہلے عقل مند نے کہا کہ اس طرح تو کوئی بھی کرسکتا ہے۔استادی تو یہ ہے کہ آپ موم سر پے رکھ کے بگلا پکڑ کے دکھائیں تاکہ آپ کی واہ واہ ہوجائے۔۔۔ بالاخر پیپلز پارٹی نے کشمیر اسمبلی کے لئے کراچی کی دو مخصوص نشستوں کو ایم کیو ایم کے لئے چھوڑ دیا۔ یہی کام دو ہفتے کے دوران منہ سے شعلے اگلنے کے کرتب ، ڈیڑھ سو کے لگ بھگ افراد کی ہلاکت اور اربوں روپے کے کاروباری نقصان سے پہلے بھی ہوسکتا تھا۔لیکن پھر استاد کون مانتا!! ماخذ : بی بی سی اردو

  • grapes-wine
    انگور اور شراب انگور اور شراب

    انگور اور شراب

انگور اور شراب

مشہور شامی مصنف عادل ابو شنب نے اپنی کتاب شوام ظرفاء میں عرب مُلک شام میں متعین فرانسیسی کمشنر کی طرف سے دی گئی ایک ضیافت میں پیش آنے والے ایک دلچسپ واقعے کا ذکر کیا ہے۔ اُن دنوں یہ خطہ فرانس کے زیر تسلط تھا اور شام سمیت کئی آس پاس کے مُلکوں کیلئے ایک ہی کمشنر (موریس سارای) تعینات تھا۔ کمشنر نے اس ضیافت میں دمشق کے معززین، شیوخ اور علماء کو مدعو کیا ہوا تھا۔ اس ضیافت میں ایک سفید دستار باندھے دودھ کی طرح سفید ڈاڑھی والے بزرگ بھی آئے ہوئے تھے۔ اتفاق سے اُنکی نشست کمشنر کے بالکل آمنے سامنے تھی۔  کمشنر نے دیکھا کہ یہ بزرگ کھانے میں ہاتھ ڈالے مزے سے ہاتھوں کے ساتھ کھانا کھا رہا ہے جبکہ چھری کانٹے اُس کی میز پر موجود ہیں۔ ایسا منظر دیکھ کر کمشنر صاحب کا کراہت اور غُصے سے بُرا حال ہو رہا تھا۔ نظر انداز کرنے کی بہت کوشش کی مگر اپنے آپ پر قابو نا پا سکا۔ اپنے ترجمان کو بُلا کر کہا کہ اِس شیخ صاحب سے پوچھے کہ آخر وہ ہماری طرح کیوں نہیں کھاتا؟ شیخ صاحب نے ترجمان کو دیکھا اور نہایت ہی سنجیدگی سے جواب دیا؛ تو تمہارا خیال ہے کہ میں اپنئ ناک سے کھا رہا ہوں؟ کمشنر صاحب نے کہا، نہیں ایسی بات نہیں، ہمارا مطلب یہ ہے کہ تم چھری اور کانٹے کے ساتھ کیوں نہیں کھاتے؟ شیخ صاحب نے جواب دیا؛ مُجھے اپنے ہاتھوں کی صفائی اور پاکیزگی پر پورا یقین اور بھروسہ ہے، کیا تمہیں بھی اپنے چھری اور کانٹوں پر کی صفائی اور پاکیزگی پر اتنا ہی بھروسہ ہے؟ شیخ صاحب کے جواب سے کمشنر جل  بھن کر رہ گیا، اُس نے تہیہ کر لیا کہ اس [...]

  • bbcurdu
    یہ آرٹسٹ لوگ ہیں۔ از وسعت اللہ خان ( بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی) یہ آرٹسٹ لوگ ہیں۔ از وسعت اللہ خان ( بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی)

    یہ آرٹسٹ لوگ ہیں۔ از وسعت اللہ خان ( بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی)

یہ آرٹسٹ لوگ ہیں۔ از وسعت اللہ خان ( بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی)

جو لوگ سیاسی اصول پسندی ، نظریے سے وفاداری اور عمومی اخلاقیات کی پاسداری کی بات کرتے ہیں۔اب انہیں چاہیے کہ کہیں بھی واعظ یا لیکچرر کی ملازمت پکڑ لیں، خانقاہ بنا لیں یا تبلیغ پر نکل جائیں۔ کتابی سچائیوں کو کاروبارِ سیاست میں گھسیڑنے کی کوشش نہ کریں۔خود کو اس کنفیوژن سے نکالیں کہ سیاست دنیا کے کسی بھی کاروبار سے مختلف شے ہے۔ ان بے چاروں کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ دنیا کا ہر کاروبار منافع کے لئے کیا جاتا ہے۔گھاٹے کی ہٹی پر آخر کوئی کب تک بیٹھ سکتا ہے۔ سیاست نہ صرف ایک کاروبار ہے بلکہ فائن آرٹ کا کاروبار ہے۔ اسی لیے تو اسے ناممکنات کو ممکن بنانے کا فن کہا جاتا ہے۔ سیاست کو آپ مذہبی ، سیکولر ، دائیں یا بائیں کے خانوں میں رکھ کر خود کو تو تسلی دے سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت نہیں بدل سکتے کہ سیاست بذاتِ خود ایک مذہب ہے ۔ دنیا کا سب سے لچکدار اور جادوئی مذہب جس میں اتنی گنجائش ہے کہ سیاہ سفید ہوسکتا ہے۔ بینگن کسی بھی وقت کریلا بن سکتا ہے اور شیر بلی میں بدل سکتا ہے۔ اس سے بھی بڑا چمتکار یہ ہے کہ بازی گری دکھانے والا آپ کو اور مجھے قائل بھی کرلیتا ہے کہ جسے آپ بانس سمجھ رہے ہیں اصل میں یہ کرسی ہے۔ تقسیمِ ہند سے پہلے ایک دن جو مسلم لیگی پنجاب کے یونینسٹ وزیرِ اعلی خضر حیات کو ٹوڈی بچہ ہائے ہائے کہہ رہے تھے اگلے دن وہی مسلم لیگی کارکن جناح خضر بھائی بھائی کے نعرے لگا رہے تھے۔ جو ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ کے سکریٹری جنرل تھے انہی بھٹو کے پیپلز پارٹی کے جلسے میں ایوب کتا ہائے [...]

برو به کار خود ای واعظ این چه فریادست

ترجمہ از سید شاکرالقادری برو به کار خود ای واعظ این چه فریادست مرا فتاد دل از ره تو را چه افتادست اے واعظ! جا اپنا کام کر یہ کیا شور مچا رکھا ہے میرا تو دل میرے ہاتھوں سے گیا ـ تجھ پر کیا افتاد پڑی ہے میان او که خدا آفریده است از هیچ دقیقه*ایست که هیچ آفریده نگشادست اس محبوب کی کمر جس کو خدا نے عدم سے بنایا ہے ایک ایسا راز ہے جس کو ابھی تک کسی پیدا ہونے والے نے نہیں کھولا ہے به کام تا نرساند مرا لبش چون نای نصیحت همه عالم به گوش من بادست جب تک اس کے لب مجھے اپنے مدعا تک اس طرح نہیں پہنچائیں گے جیسے بانسری کو لبوں سے لگایا جاتا ہے اس وقت تک دنیا کی تمام نصیحتین میرے کانوں میں ہوا کی طرح ہیں گدای کوی تو از هشت خلد مستغنیست اسیر عشق تو از هر دو عالم آزادست تیرے کوچہ کا گدا آٹھ کی آٹھ جنتوں سے بے نیاز ہے اور تمہاری قید میں آنے والا قیدی دونوں جہانوں سے آزاد ہے اگر چه مستی عشقم خراب کرد ولی اساس هستی من زان خراب آبادست اگرچہ مجھے عشق کی مستی نے خراب کر دیا ہے لیکن میری ہستی کی بنیاد اسی خرابی کی وجہ سے آباد ہے دلا منال ز بیداد و جور یار که یار تو را نصیب همین کرد و این از آن دادست اے میرے دل! یار کے ظلو و جور سے نالاں نہ ہو اس لیے کہ یار نے تیرا بھی حصہ رکھا ہے اور یہی انصاف کی بات ہے برو فسانه مخوان و فسون مدم حافظ کز این فسانه و افسون مرا بسی یادست اے حافظ! جاؤ! ہمیں افسانے مت ساؤ اور مجھ [...]

اور یہ ہے سیاست دان عمران خان..ناتمام…ہارون الرشید

اگر وہ میثاقِ پاکستان پر آمادہ ہوں۔اگرماضی کے جرائم پر وہ معافی مانگ لیں ۔کم ہی ہوتا ہے، ایسا کم ہی ہوتاہے۔ تاریخ یہ کہتی ہے کہ اندھے اور بہرے ،مفاد پرستوں کے گروہ اپنے راستے پر بگٹٹ بھاگتے چلے جاتے ہیں، حتیٰ کہ تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال دئیے جاتے ہیں۔ بالاخر سیاستدان عمران خاں سے ملاقات ہو گئی۔ ایبٹ آباد میں سنا اور دیکھ لیاکہ خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر رہی ہے۔ خان نے بار بار کہا کہ 2نومبر کی دوپہر ، پشاور کے نشتر ہال میں ، میں ایک حیران کن منظر دیکھنے سے محروم رہا۔" آگ لگی تھی ، چاروں طرف آگ لگی تھی" اس نے کہا۔ سیاسی رہنما خوش فہمیوں کی جنت آباد کیا کرتے ہیں لیکن پھر پارٹی کے بڑ بولے رہنما شاہ فرمان اور دوسروں نے تفصیل بتائی ۔ ڈیڑھ ہزار نشستوں کے ہال میں چار ہزار طالب علم جمع ہوئے، حتیٰ کہ دم گھٹنے لگا۔ انتظام دھرے کا دھرا رہ گیا اور کپتان کو خود ہی سٹیج سیکرٹری بننا پڑا۔ فرطِ جذبات سے نوجوان پاگل تھے ۔ مفاہمت نہ سکھا جبرِ ناروا سے مجھے میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے وہ کچھ بھی کر گزرتے ۔ کپتان نے مگر نظم و ضبط میں ڈھلنے کی تلقین کی اور یہ کہا کہ پائیدار تبدیلی ہمیشہ جمہوری طریق سے آتی ہے۔ شاہ فرمان نے ، ادھیڑ عمری کی دہلیز پر ، جو خود بھی نوجوانوں کا سا جوش و خروش رکھتا ہے ، یہ کہا : جلسوں اور ریلیوں کے لیے ہمیں روپیہ خرچ کرنا پڑتا تھا ۔ اب کی بار کسی نے کوئی تقاضا نہ کیا۔ طالب علم ڈیرہ اسمٰعیل خان، ہزارہ اور کوہستان تک [...]

The Dancing Fountain !……آخر کیوں؟…رؤف کلاسرا

ارادہ یہ تھا کہ سیلاب سے متاثرہ کسانوں کیلئے فری ٹریکٹر اسکیم پر ملنے والے رسپانس پر بات کرتا۔ اسلام آباد کی ٹاپ ٹیکس ایکسپرٹ سعدیہ نذیر کے ایک مختصر میسج کہ چیئرٹی کا مطلب بھکاری پیدا کرنا نہیں ہوتا بلکہ انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہوتا ہے، سے متاثر ہو کر غریب کسانوں کیلئے مستقل بنیادوں پر شروع کئے جانے والے اس پروجیکٹ کی مزید تفصیلات آپ سے شیئر کرتا۔ جن مہربانوں نے ای میل کر کے اس میں اپنا حصہ ڈالنے کی پیشکش کی ہے ان سب کا شکریہ۔ شاید میں بھی اب اس بات کا قائل ہو گیا ہوں کہ ہر وقت کے رونے دھونے سے بہتر ہے کہ ہم چاہے کچھ مختصر لوگ ہی سہی اپنے تیئں مل کر جو تبدیلی کچلے ہوئے طبقات کی زندگیوں میں لا سکتے ہیں وہ لانی چاہئے۔ ایک طرف میں اتنے سارے لوگوں کی اپنے خون پسینے کی کمائی میں سے دیئے گئے عطیات کی پیشکش کو دیکھتا ہوں تو دوسری طرف میرے سامنے کچھ ایسے اعداد و شمار آتے ہیں کہ یقین نہیں آتا کہ ملک کو ہم کیسے اپنے ہاتھوں سے لوٹ اور برباد کر رہے ہیں۔کیا آپ اس بات پر یقین کریں گے کہ 2008-09 میں اسلام آباد کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے اسلام آباد کو خوبصورت بنانے کے پر دو ارب بیس کروڑ روپے خرچ کیے۔ ایف۔نائن پارک پر ایک ارب بیس کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ لینڈ سکیپنگ کے نام پر پچپن کروڑ روپے خرچ ہوئے۔تیرہ کروڑ روپے کا ایک Dancing fountain خریدا گیا۔ مٹی کی کھدائی، چڑیا گھر، پھولوں کی آبیاری کے نام پر مزید پچاس کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ اس میں کس نے کتنا کھایا ہوگا آپ خود اس کا حساب کتاب کریں۔ ابھی دل تھام کر بیٹھیں [...]

جب روم جل رہا تھا – از ڈاکٹر عبدالقدیرخان

تقریباَ دو ہزار سال قبل جب سلطنت روم اپنے پورے عروج پر تھی اور عیسائیت کی ابتداء ہی ہوئی تھی او ر اس کے پیروکار وں کی تعداد ابھی بہت کم تھی اس وقت 15دسمبر سن 37کو روم کے نزدیک ایک نواحی علاقہ میں ایک لڑکا پیدا ہوا تھا جو بعد میں نیرو کے نام سے شہرت یافتہ ہوا۔ ماں کی طرف سے اس کا تعلق قیصر روم سے تھا ۔ اس زمانہ میں شاہی خاندان میں سازشیں ، قتل ، ملک بدری جیسی چیزیں عام تھیں۔ ان ہی سازشوں اور حالات کے تغیرات کے نتیجہ میں نیرو صرف سولہ سال کی عمر میں شہنشاہ بن گیا تھا۔ نیرو کے بارہ میں تاریخ دانوں نے لاتعداد کہانیاں بیان کی ہیں خدا جانے ان میں کیا حقیقت ہے : ہر فسانہ غور سے سنتا ہوں محسن…… اس لئے ایک حقیقت کے بھی بن جاتے ہیں افسانے بہت یہ تک کہا گیا ہے کہ نیرو نے اپنی ماں کو قتل کر ا دیا تھا۔ تاریخ دان نیرو کو اپنی بد نامی ، دیوانگی اور ایذارسانی ، ظلم و سازش کے لئے رومن بادشاہوں میں صف اول میں شمار کرتے ہیں۔ اس کے متعلق ضرب المثل بن گئی ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ 18اور19جولائی 64کو روم کے جنوب مشرق میں آتشبازی کی دوکان میں آگ لگ گئی اور اس نے روم کے چودہ قصبوں میں سے تین کو مکمل طور پر خاکستر کر دیا اور سات کو بہت نقصان پہنچایا۔ یہ آگ پانچ دن تک جلتی رہی ، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ آگ خود نیرو نے لگائی تھی کیونکہ وہ اس جگہ ایک عالیشان و وسیع و عریض محل تعمیر کرنا چاہتا تھا۔ [...]

قائداعظم، جگن ناتھ آزاد اور قومی ترانہ۔ کچھ حقائق

کچھ عرصہ سے پاکستان میں جگن ناتھ آزاد اور ان کے ایک ملی نغمے کو لیکر ایک بحث چل پڑی تھی، جس میں ہمارے بعض دانشور حضرات جگن ناتھ آزاد کے بیٹے کے بیان کے حوالے سے یہ دعوی کر رہے تھے کہ جگن ناتھ آزاد نے پاکستان کے قیام کے بعد اس ملک کے لئے ایک قومی ترانہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی فرمائش پر لکھا تھا۔ جس کو آنے والی حکومتوں نے مسترد کر دیا اور حفیظ جالندھری کا لکھا ہوا ترانہ اپنا لیا۔ اس دعوی کو دنیا ٹی وی ایک پروگرام حسب حال میں آفتاب اقبال نے بھی دہرایا تھا، جس کے بعد عوام کے ذہنوں میں ایک نئے تذبذب میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس سلسلے میں پاکستان کے ممتاز محقق جناب ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کی تازہ تحقیق جس کی روزنامہ جنگ میں دو اقساط شائع ہو چکی ہیں، وہ آپ کے ساتھ شئیر کر رہا ہوں۔   قائداعظم، جگن ناتھ آزاد اور قومی ترانہ؟…صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود اس کالم کامقصد صرف اور صرف سچ کی تلاش ہے نہ کہ کسی بحث میں الجھنا۔ میں اپنی حد تک کھلے ذہن کے ساتھ سچ کی تلاش کے تقاضے پورے کرنے کے بعد یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ پچھلے دنوں میڈیا (پرنٹ اور الیکٹرانک) پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ قائداعظم نے قیام پاکستان قبل 9اگست 1947 کو جگن ناتھ آزاد کو بلاکر پاکستان کاترانہ لکھنے کو کہا۔ انہوں نے پانچ دنوں میں ترانہ لکھ دیا جو قائداعظم کی منظوری کے بعد آزادی کے اعلان کے ساتھ ہی ریڈیو پاکستان سے نشر ہوااور پھر یہ ترانہ 18ماہ تک پاکستان میں بجتا رہا۔ جب 23فروری 1949کو حکومت ِ پاکستان نے قومی ترانے کے لئے کمیٹی بنائی تو یہ ترانہ بند [...]

محمد یونس سپال مرحوم : ترے خلوص کا قائل تو اک زمانہ تھا ۔۔۔

  محمد یونس سپال، ایک ایسی شخصیت جس کی زندہ دلی نے ایک عرصہ تک سب کو اپنے سحر میں لئے رکھا۔ میرا بھائی جب بھی کسی کو تکلیف میں دیکھتا فورا اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے آنسو پونچھ لیتا تھا۔ کس کے چہرے پر اداسی کی جھلک نظر آتی تو اس کی پر لطف باتیں سب کے چہرے کی رونق بحال کر دیتی تھیں۔ اپریل 14، 2010 وہ دن جس دن سب کی آنکھوں سے آنسو پوچھنے والا، سب کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنے والا انسان اعتبار شکنی کا کرب اپنے دل میں دبائے اس دنیا سے منہ موڑ گیا۔ انا للہ وانا علیہ راجعون۔ یونس بھائی آپ کا جانا ہم سب کی زندگی میں ایک ایسا خلاء بنا گیا ہے جو شائد کبھی پورا نہ ہو سکے۔ یونس بھائی آپ کے لئے کچھ نہ کر سکنے کا کرب تمام عمر میرے دل میں رہے گا, مجھے معاف کر دینا میرے بھائی۔ اللہ عز وجل سے التجا ہے کہ وہ آپ کی تمام خطائیں معاف فرمائے۔ اور آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ہمیں خبر نہ تھی ناگاہ تم نے جانا تھا چراغ بزم مسرت کا یوں بجھانا تھا ابھی شباب کے دن تھے بہار کا موسم شباب میں تجھے پیغام مرگ آنا تھا یہ فیصلہ تھا مقدر کا، موسم گل میں چمن میں برق نے اک آشیاں جلانا تھا تمہارے خلق میں تسنیم کی لطافت تھی تمہارا لہجہ محبت کا اک ترانا تھا رضا و خدمت و تسلیم و شکر و حسن عمل ہر ایک وصف کا گویا تو اک خزانہ تھا وفا و مہر و محبت اصول تھے تیرے ترے خلوص کا قائل تو اک زمانہ تھا وہ تیری خندہ شعاری تیری کشادہ دلی نسیم صبح [...]

  • bbcurdu
    کہ کرامات کرو ہو! ( وسعت اللہ خان۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد) کہ کرامات کرو ہو! ( وسعت اللہ خان۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد)

    کہ کرامات کرو ہو! ( وسعت اللہ خان۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد)

کہ کرامات کرو ہو! ( وسعت اللہ خان۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد)

مجھے یاد ہے کہ سینتیس برس پہلے جب محمود علی قصوری اور عبدالحفیظ پیرزادہ جیسے قانونی ماہرین پر مشتمل کمیٹی کا مرتب کردہ آئینی مسودہ پارلیمنٹ میں بحث کے لئے پیش ہوا تو اسمبلی ہال میں امید کی فصل لہلہا اٹھی۔ہر کوئی متفقہ آئینی مسودہ تیار کرنے پر ایک دوسرے کومبارک باد دے رہا تھا۔ سول سوسائیٹی خوش تھی کہ بنیادی انسانی حقوق کے احترام اور بلا امتیازِ جنس و مذہب سب کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنے کی ضمانت دی گئی ہے۔مذہبی جماعتیں یوں خوش تھیں کہ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہا گیا ہے اور یہ بھی کہ شریعت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں ہوگی۔ قوم پرست اس لئے خوش تھے کہ دس برس بعد کنکرنٹ لسٹ ختم ہوجاتی اور صوبے مزید بااختیار ہوجاتے۔اپنے بل بوتے اور صلاحیت کی بنیاد پر ترقی پر یقین رکھنے والے اس لیے شاداں تھے کہ دس برس بعد تعلیم و ملازمت کا کوٹہ سسٹم ختم ہوجائے گا۔جمہو ریت پسند جشن منارہے تھے کہ آئین توڑنے یا اسکا یکطرفہ حلیہ بگاڑنے کی سزا موت ہے اور اب جمہوریت سے سنگین مذاق کرنے کا زمانہ لد چکا۔ سوائے ایک یا دو ارکانِ پارلیمان سب ہی نے آئینی مسودے پر خوشی خوشی دستخط کردئیے۔انکے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ یہ آئین بمشکل سات آٹھ گھنٹے ہی اپنی خالص شکل میں نافذ رہ سکے گا ۔ چودہ اگست انیس سو تہتر کو آئین نافذ ہوا اور پندرہ اگست کو ملک کے غیر معمولی حالات کے بہانےشہریوں کے آئینی حقوق معطل کردئیے گئے۔اور جب تک اس آئین کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت رہی ملک ایمرجنسی اور ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت ہی چلایا جاتا رہا۔ جب ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کرکے آئین [...]