ایک عقل مند نے دوسرے عقل مند سے پوچھا کہ بگلا زندہ پکڑنے کی موثر ترکیب کیا ہے۔ بالاخر پیپلز پارٹی نے کشمیر اسمبلی کے لئے کراچی کی دو مخصوص نشستوں کو ایم کیو ایم کے لئے چھوڑ دیا۔ پہلے عقلمند نے کہا بہت ہی آسان ہے۔جب آپ بگلا دیکھیں تو کہنیوں کے بل رینگتے رینگتے ایک لمبا چکر کاٹ کر بگلے کے پیچھے پہنچیں تاکہ وہ ہوشیار نا ہوجائے۔ قریب پہنچتے ہی بگلے کے سر پر موم رکھ دیں۔موم سورج کی روشنی سے پگھل کر بگلے کی آنکھوں میں چلا جائے گا جس کے بعد وہ کچھ نہیں دیکھ پائےگا اور بے بس ہوجائے گا۔بس یہی وقت ہے کہ آپ اسے گردن سے زندہ پکڑ لیں۔ دوسرے عقلمند نے کہا کہ یار بات تو تمہاری ٹھیک ہے لیکن اگر میں بگلے کے قریب پہنچ ہی جاتا ہوں تو پھر سر پے موم کیوں رکھوں ۔سیدھے سیدھے اس کی گردن ہی کیوں نا پکڑ لوں۔ پہلے عقل مند نے کہا کہ اس طرح تو کوئی بھی کرسکتا ہے۔استادی تو یہ ہے کہ آپ موم سر پے رکھ کے بگلا پکڑ کے دکھائیں تاکہ آپ کی واہ واہ ہوجائے۔۔۔ بالاخر پیپلز پارٹی نے کشمیر اسمبلی کے لئے کراچی کی دو مخصوص نشستوں کو ایم کیو ایم کے لئے چھوڑ دیا۔ یہی کام دو ہفتے کے دوران منہ سے شعلے اگلنے کے کرتب ، ڈیڑھ سو کے لگ بھگ افراد کی ہلاکت اور اربوں روپے کے کاروباری نقصان سے پہلے بھی ہوسکتا تھا۔لیکن پھر استاد کون مانتا!! ماخذ : بی بی سی اردو
مائیکروسوفٹ اگلے ہفتے سے آفس ایکس پی اور وسٹا سروس پیک ون کی سپورٹ ختم کر دے گا۔
مائیکروسوفٹ کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق کمپنی اگلے ہفتے سے آفس ایکس پی 2001 اور ونڈوز وسٹا کے پہلے سروس پیک کی سپورٹ ختم کر دے گا۔ جولائی 12 کو ان دونوں کا آکری بار سیکورٹی پیچ جاری کیا جائے گا۔ مائیکروسوفٹ اپنی تمام پروڈکٹس کا دس سال تک سپورٹ کرتا ہے، جس میں پہلے پانچ سال مین سٹریم سپورٹ اور باقی کے پانچ سال میں نان سیکورٹی فکسز کے علاوہ سپورٹ صرف ان لوگوں کو سپورٹ دی جاتی ہے جنہوں نے اس کنٹریکٹ کے لئے مائیکروسوفٹ کو ادائیگی کی ہوتی ہے۔ لیکن خواہ 12 جولائی سے ان دونوں کی سپورٹ ختم ہو رہی، مگر وسٹا استعمال کنندگان اپنے سسٹم کو سروس پیک 2 پر اپگریڈ کر کے سپورٹ جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ سروس پیک ونڈوز اپ ڈیٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے یا مائیکروسوفٹ کی ویب سائیٹ سے 32 بٹ اور 64 بٹ کے لئے حاصل کی جا سکتا ہے۔
انگور اور شراب
مشہور شامی مصنف عادل ابو شنب نے اپنی کتاب شوام ظرفاء میں عرب مُلک شام میں متعین فرانسیسی کمشنر کی طرف سے دی گئی ایک ضیافت میں پیش آنے والے ایک دلچسپ واقعے کا ذکر کیا ہے۔ اُن دنوں یہ خطہ فرانس کے زیر تسلط تھا اور شام سمیت کئی آس پاس کے مُلکوں کیلئے ایک ہی کمشنر (موریس سارای) تعینات تھا۔ کمشنر نے اس ضیافت میں دمشق کے معززین، شیوخ اور علماء کو مدعو کیا ہوا تھا۔ اس ضیافت میں ایک سفید دستار باندھے دودھ کی طرح سفید ڈاڑھی والے بزرگ بھی آئے ہوئے تھے۔ اتفاق سے اُنکی نشست کمشنر کے بالکل آمنے سامنے تھی۔ کمشنر نے دیکھا کہ یہ بزرگ کھانے میں ہاتھ ڈالے مزے سے ہاتھوں کے ساتھ کھانا کھا رہا ہے جبکہ چھری کانٹے اُس کی میز پر موجود ہیں۔ ایسا منظر دیکھ کر کمشنر صاحب کا کراہت اور غُصے سے بُرا حال ہو رہا تھا۔ نظر انداز کرنے کی بہت کوشش کی مگر اپنے آپ پر قابو نا پا سکا۔ اپنے ترجمان کو بُلا کر کہا کہ اِس شیخ صاحب سے پوچھے کہ آخر وہ ہماری طرح کیوں نہیں کھاتا؟ شیخ صاحب نے ترجمان کو دیکھا اور نہایت ہی سنجیدگی سے جواب دیا؛ تو تمہارا خیال ہے کہ میں اپنئ ناک سے کھا رہا ہوں؟ کمشنر صاحب نے کہا، نہیں ایسی بات نہیں، ہمارا مطلب یہ ہے کہ تم چھری اور کانٹے کے ساتھ کیوں نہیں کھاتے؟ شیخ صاحب نے جواب دیا؛ مُجھے اپنے ہاتھوں کی صفائی اور پاکیزگی پر پورا یقین اور بھروسہ ہے، کیا تمہیں بھی اپنے چھری اور کانٹوں پر کی صفائی اور پاکیزگی پر اتنا ہی بھروسہ ہے؟ شیخ صاحب کے جواب سے کمشنر جل بھن کر رہ گیا، اُس نے تہیہ کر لیا کہ اس [...]
یہ آرٹسٹ لوگ ہیں۔ از وسعت اللہ خان ( بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی)
جو لوگ سیاسی اصول پسندی ، نظریے سے وفاداری اور عمومی اخلاقیات کی پاسداری کی بات کرتے ہیں۔اب انہیں چاہیے کہ کہیں بھی واعظ یا لیکچرر کی ملازمت پکڑ لیں، خانقاہ بنا لیں یا تبلیغ پر نکل جائیں۔ کتابی سچائیوں کو کاروبارِ سیاست میں گھسیڑنے کی کوشش نہ کریں۔خود کو اس کنفیوژن سے نکالیں کہ سیاست دنیا کے کسی بھی کاروبار سے مختلف شے ہے۔ ان بے چاروں کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ دنیا کا ہر کاروبار منافع کے لئے کیا جاتا ہے۔گھاٹے کی ہٹی پر آخر کوئی کب تک بیٹھ سکتا ہے۔ سیاست نہ صرف ایک کاروبار ہے بلکہ فائن آرٹ کا کاروبار ہے۔ اسی لیے تو اسے ناممکنات کو ممکن بنانے کا فن کہا جاتا ہے۔ سیاست کو آپ مذہبی ، سیکولر ، دائیں یا بائیں کے خانوں میں رکھ کر خود کو تو تسلی دے سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت نہیں بدل سکتے کہ سیاست بذاتِ خود ایک مذہب ہے ۔ دنیا کا سب سے لچکدار اور جادوئی مذہب جس میں اتنی گنجائش ہے کہ سیاہ سفید ہوسکتا ہے۔ بینگن کسی بھی وقت کریلا بن سکتا ہے اور شیر بلی میں بدل سکتا ہے۔ اس سے بھی بڑا چمتکار یہ ہے کہ بازی گری دکھانے والا آپ کو اور مجھے قائل بھی کرلیتا ہے کہ جسے آپ بانس سمجھ رہے ہیں اصل میں یہ کرسی ہے۔ تقسیمِ ہند سے پہلے ایک دن جو مسلم لیگی پنجاب کے یونینسٹ وزیرِ اعلی خضر حیات کو ٹوڈی بچہ ہائے ہائے کہہ رہے تھے اگلے دن وہی مسلم لیگی کارکن جناح خضر بھائی بھائی کے نعرے لگا رہے تھے۔ جو ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ کے سکریٹری جنرل تھے انہی بھٹو کے پیپلز پارٹی کے جلسے میں ایوب کتا ہائے [...]
کیا کریں اس ملک میں ہر چیز کی ہڑتال ہے ۔ کلام عزیزی (دنیا ٹی وی)
کس کمینے کی ہے سازش، کس چول کی چال ہے کیا کریں اس ملک میں ہر چیز کی ہڑتال ہے لوڈشیڈنگ نے دئیے ہیں اس طرح کے رتجگے کوئی دوزخ میں بھی جائے گر تو گرمی نہ لگے میرے پیارے واپڈا کی بس یہی اوقات ہے چار گھنٹے لائٹ ہے اور پھر اندھیری رات ہے بدعا دے دے کر تالو خشک اور منہ لال ہے کیا کریں اس ملک میں ہر چیز کی ہڑتال ہے بند سی این جی سٹیشن نہ ملے پٹرول ہی پڑ گیا ڈاکہ جہاں ناکہ تھا خاصا کول ہی دیکھ کر منظر سارا ہاتھ کیا ان کے ہلیں جن کہ پیٹی میں سے پسٹل کی جگہ سگریٹ ملیں ڈاکوؤں کو علم ہے سرکار اپنے نال ہے کیا کریں اس ملک میں ہر چیز کی ہڑتال ہے کس قدر پہنچے ہوئے کہ بس زباں ان کی ہلے چائے پینے کے لئے دو چار ارب قرضہ ملے کون کہتا ہے سارا معاف کرواتے ہیں یہ جو کہیں تو چار پانچ سو واپس بھی لوٹاتے ہیں یہ اور پھر یہ بولتے ہیں گورنمنٹ کنگال ہے کیا کریں اس ملک میں ہر چیز کی ہڑتال ہے گالیاں نکلیں زباں سے ہاتھ سے پتھر چلا نہ چلا تو ملک کا قانون نہ ان پر چلا چل گئے گھونسے، چپیڑیں اور اینٹیں چل گئیں کرسیاں تو چھوڑئیے، میک اپ کی کٹیں چل گئیں یہ اسمبلی ہے جہاں لوٹا بنا فٹبال ہے کیا کریں اس ملک میں ہر چیز کی ہڑتال ہے جیب میں دھیلا نہیں اور چانپ کھانے کی لگن دوڑ جا تیرا یہاں کیا کام ہے بولا مٹن چھوڑ دے میری طلب کہنے لگا مرغ چمن تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن تیرے حصے میں فقط [...]
ایک ماں کا پیغام اپنے بچوں کے نام
بوڑھے ماں باپ کے حقوق کوئی قسمت والا ہی ادا کر سکتا ہے۔اکثر اوقات اولاد اپنی غفلت اور نادانی سے اس سعادت سے محروم رہ جاتی ہے. اسی غفلت سے بچنے کی طرف توجہ دلانے کے لئے یہ نظم لکھی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کے حقوق اور اپنے فرائض سمجھنے کی توفیق دے آمین۔ میرے بچو،گر تم مجھ کو بڑھاپے کے حال میں دیکھو اُکھڑی اُکھڑی چال میں دیکھو مشکل ماہ و سال میں دیکھو صبر کا دامن تھامے رکھنا کڑوا ہے یہ گھونٹ پہ چکھنا ”اُف “ نہ کہنا،غصے کا اظہار نہ کرنا میرے دل پر وار نہ کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھ مرے گر کمزوری سے کا نپ اٹھیں اور کھانا،مجھ پر گر جائے تو مجھ کو نفرت سے مت تکنا،لہجے کو بیزار نہ کرنا بھول نہ جانا ان ہاتھوں سے تم نے کھانا کھانا سیکھا جب تم کھانا میرے کپڑوں اور ہاتھوں پر مل دیتے تھے میں تمہارا بوسہ لے کر ہنس دیتی تھی کپڑوں کی تبدیلی میں گر دیر لگا دوں یا تھک جاؤں مجھ کو سُست اور کاہل کہہ کر ، اور مجھے بیمار نہ کرنا بھول نہ جانا کتنے شوق سے تم کو رنگ برنگے کپڑے پہناتی تھی اک اک دن میں دس دس بار بدلواتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے یہ کمزور قدم گر جلدی جلدی اُٹھ نہ پائیں میرا ہاتھ پکڑ لینا تم ،تیز اپنی رفتار نہ کرنا بھول نہ جانا،میری انگلی تھام کے تم نے پاؤں پاؤں چلنا سیکھا میری باہوں کے حلقے میں گرنا اور سنبھلنا سیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب میں باتیں کرتے کرتے،رُک جاؤں ،خود کو دھراوں ٹوٹا ربط پکڑ نہ پاؤں،یادِ ماضی میں کھو جاؤں آسانی سے سمجھ نہ پاؤں،مجھ کو نرمی سے سمجھانا مجھ سے مت بے کار اُلجھنا،مجھے سمجھنا اکتاکر، گھبراکر مجھ کو [...]
سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں ( احمد فراز )
سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں تو اس کے شہر میںکچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیںاس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیںکاکلیں اس کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی جو سادہ دل ہیںاسے بن سنور کے دیکھتے ہیں سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ امکاں میں پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں کہ اس شجر پہ شگوفے [...]
برو به کار خود ای واعظ این چه فریادست
ترجمہ از سید شاکرالقادری برو به کار خود ای واعظ این چه فریادست مرا فتاد دل از ره تو را چه افتادست اے واعظ! جا اپنا کام کر یہ کیا شور مچا رکھا ہے میرا تو دل میرے ہاتھوں سے گیا ـ تجھ پر کیا افتاد پڑی ہے میان او که خدا آفریده است از هیچ دقیقه*ایست که هیچ آفریده نگشادست اس محبوب کی کمر جس کو خدا نے عدم سے بنایا ہے ایک ایسا راز ہے جس کو ابھی تک کسی پیدا ہونے والے نے نہیں کھولا ہے به کام تا نرساند مرا لبش چون نای نصیحت همه عالم به گوش من بادست جب تک اس کے لب مجھے اپنے مدعا تک اس طرح نہیں پہنچائیں گے جیسے بانسری کو لبوں سے لگایا جاتا ہے اس وقت تک دنیا کی تمام نصیحتین میرے کانوں میں ہوا کی طرح ہیں گدای کوی تو از هشت خلد مستغنیست اسیر عشق تو از هر دو عالم آزادست تیرے کوچہ کا گدا آٹھ کی آٹھ جنتوں سے بے نیاز ہے اور تمہاری قید میں آنے والا قیدی دونوں جہانوں سے آزاد ہے اگر چه مستی عشقم خراب کرد ولی اساس هستی من زان خراب آبادست اگرچہ مجھے عشق کی مستی نے خراب کر دیا ہے لیکن میری ہستی کی بنیاد اسی خرابی کی وجہ سے آباد ہے دلا منال ز بیداد و جور یار که یار تو را نصیب همین کرد و این از آن دادست اے میرے دل! یار کے ظلو و جور سے نالاں نہ ہو اس لیے کہ یار نے تیرا بھی حصہ رکھا ہے اور یہی انصاف کی بات ہے برو فسانه مخوان و فسون مدم حافظ کز این فسانه و افسون مرا بسی یادست اے حافظ! جاؤ! ہمیں افسانے مت ساؤ اور مجھ [...]
اور یہ ہے سیاست دان عمران خان..ناتمام…ہارون الرشید
اگر وہ میثاقِ پاکستان پر آمادہ ہوں۔اگرماضی کے جرائم پر وہ معافی مانگ لیں ۔کم ہی ہوتا ہے، ایسا کم ہی ہوتاہے۔ تاریخ یہ کہتی ہے کہ اندھے اور بہرے ،مفاد پرستوں کے گروہ اپنے راستے پر بگٹٹ بھاگتے چلے جاتے ہیں، حتیٰ کہ تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال دئیے جاتے ہیں۔ بالاخر سیاستدان عمران خاں سے ملاقات ہو گئی۔ ایبٹ آباد میں سنا اور دیکھ لیاکہ خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر رہی ہے۔ خان نے بار بار کہا کہ 2نومبر کی دوپہر ، پشاور کے نشتر ہال میں ، میں ایک حیران کن منظر دیکھنے سے محروم رہا۔" آگ لگی تھی ، چاروں طرف آگ لگی تھی" اس نے کہا۔ سیاسی رہنما خوش فہمیوں کی جنت آباد کیا کرتے ہیں لیکن پھر پارٹی کے بڑ بولے رہنما شاہ فرمان اور دوسروں نے تفصیل بتائی ۔ ڈیڑھ ہزار نشستوں کے ہال میں چار ہزار طالب علم جمع ہوئے، حتیٰ کہ دم گھٹنے لگا۔ انتظام دھرے کا دھرا رہ گیا اور کپتان کو خود ہی سٹیج سیکرٹری بننا پڑا۔ فرطِ جذبات سے نوجوان پاگل تھے ۔ مفاہمت نہ سکھا جبرِ ناروا سے مجھے میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے وہ کچھ بھی کر گزرتے ۔ کپتان نے مگر نظم و ضبط میں ڈھلنے کی تلقین کی اور یہ کہا کہ پائیدار تبدیلی ہمیشہ جمہوری طریق سے آتی ہے۔ شاہ فرمان نے ، ادھیڑ عمری کی دہلیز پر ، جو خود بھی نوجوانوں کا سا جوش و خروش رکھتا ہے ، یہ کہا : جلسوں اور ریلیوں کے لیے ہمیں روپیہ خرچ کرنا پڑتا تھا ۔ اب کی بار کسی نے کوئی تقاضا نہ کیا۔ طالب علم ڈیرہ اسمٰعیل خان، ہزارہ اور کوہستان تک [...]
The Dancing Fountain !……آخر کیوں؟…رؤف کلاسرا
ارادہ یہ تھا کہ سیلاب سے متاثرہ کسانوں کیلئے فری ٹریکٹر اسکیم پر ملنے والے رسپانس پر بات کرتا۔ اسلام آباد کی ٹاپ ٹیکس ایکسپرٹ سعدیہ نذیر کے ایک مختصر میسج کہ چیئرٹی کا مطلب بھکاری پیدا کرنا نہیں ہوتا بلکہ انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہوتا ہے، سے متاثر ہو کر غریب کسانوں کیلئے مستقل بنیادوں پر شروع کئے جانے والے اس پروجیکٹ کی مزید تفصیلات آپ سے شیئر کرتا۔ جن مہربانوں نے ای میل کر کے اس میں اپنا حصہ ڈالنے کی پیشکش کی ہے ان سب کا شکریہ۔ شاید میں بھی اب اس بات کا قائل ہو گیا ہوں کہ ہر وقت کے رونے دھونے سے بہتر ہے کہ ہم چاہے کچھ مختصر لوگ ہی سہی اپنے تیئں مل کر جو تبدیلی کچلے ہوئے طبقات کی زندگیوں میں لا سکتے ہیں وہ لانی چاہئے۔ ایک طرف میں اتنے سارے لوگوں کی اپنے خون پسینے کی کمائی میں سے دیئے گئے عطیات کی پیشکش کو دیکھتا ہوں تو دوسری طرف میرے سامنے کچھ ایسے اعداد و شمار آتے ہیں کہ یقین نہیں آتا کہ ملک کو ہم کیسے اپنے ہاتھوں سے لوٹ اور برباد کر رہے ہیں۔کیا آپ اس بات پر یقین کریں گے کہ 2008-09 میں اسلام آباد کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے اسلام آباد کو خوبصورت بنانے کے پر دو ارب بیس کروڑ روپے خرچ کیے۔ ایف۔نائن پارک پر ایک ارب بیس کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ لینڈ سکیپنگ کے نام پر پچپن کروڑ روپے خرچ ہوئے۔تیرہ کروڑ روپے کا ایک Dancing fountain خریدا گیا۔ مٹی کی کھدائی، چڑیا گھر، پھولوں کی آبیاری کے نام پر مزید پچاس کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ اس میں کس نے کتنا کھایا ہوگا آپ خود اس کا حساب کتاب کریں۔ ابھی دل تھام کر بیٹھیں [...]


