بوڑھے ماں باپ کے حقوق کوئی قسمت والا ہی ادا کر سکتا ہے۔اکثر اوقات اولاد اپنی غفلت اور نادانی سے اس سعادت سے محروم رہ جاتی ہے. اسی غفلت سے بچنے کی طرف توجہ دلانے کے لئے یہ نظم لکھی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کے حقوق اور اپنے فرائض سمجھنے کی توفیق دے آمین۔ میرے بچو،گر تم مجھ کو بڑھاپے کے حال میں دیکھو اُکھڑی اُکھڑی چال میں دیکھو مشکل ماہ و سال میں دیکھو صبر کا دامن تھامے رکھنا کڑوا ہے یہ گھونٹ پہ چکھنا ”اُف “ نہ کہنا،غصے کا اظہار نہ کرنا میرے دل پر وار نہ کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھ مرے گر کمزوری سے کا نپ اٹھیں اور کھانا،مجھ پر گر جائے تو مجھ کو نفرت سے مت تکنا،لہجے کو بیزار نہ کرنا بھول نہ جانا ان ہاتھوں سے تم نے کھانا کھانا سیکھا جب تم کھانا میرے کپڑوں اور ہاتھوں پر مل دیتے تھے میں تمہارا بوسہ لے کر ہنس دیتی تھی کپڑوں کی تبدیلی میں گر دیر لگا دوں یا تھک جاؤں مجھ کو سُست اور کاہل کہہ کر ، اور مجھے بیمار نہ کرنا بھول نہ جانا کتنے شوق سے تم کو رنگ برنگے کپڑے پہناتی تھی اک اک دن میں دس دس بار بدلواتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے یہ کمزور قدم گر جلدی جلدی اُٹھ نہ پائیں میرا ہاتھ پکڑ لینا تم ،تیز اپنی رفتار نہ کرنا بھول نہ جانا،میری انگلی تھام کے تم نے پاؤں پاؤں چلنا سیکھا میری باہوں کے حلقے میں گرنا اور سنبھلنا سیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب میں باتیں کرتے کرتے،رُک جاؤں ،خود کو دھراوں ٹوٹا ربط پکڑ نہ پاؤں،یادِ ماضی میں کھو جاؤں آسانی سے سمجھ نہ پاؤں،مجھ کو نرمی سے سمجھانا مجھ سے مت بے کار اُلجھنا،مجھے سمجھنا اکتاکر، گھبراکر مجھ کو [...]
ماں جھوٹ بولتی ہے !!!
القلم پر سید شاکر القادری صاحب نے ایک ای میل شئیر کی ہے ، معلوم نہیں یہ کس کی تحریر ہے لیکن مجھے اچھی لگی اس لیے آپ کی نذر کرتا ہوں میری ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی، آٹھ بار میری ماں نے مجھ سے جھوٹ بولا۔ یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔۔میں ایک بہت غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔۔۔اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھ مل جاتا تو امی اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دے دیتیں اور کہتیں۔۔تم کھا لو مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا پہلا جھوٹ تھا۔ جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کر کے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے جاتی اور ایک دن اللہ کے کرم سے دو مچھلیاں پکڑ لیں تو انھیں جلدی جلدی پکایا اور میرے سامنے رکھ دیا۔میں کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا لگا رہ جاتا اسے وہ کھاتی۔۔۔یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔میں نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی ۔۔اس نے واپس کر دی اور کہا ۔۔بیٹا تم کھالو۔۔تمھیں پتہ ہے نا مچھلی مجھے پسند نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا دوسرا جھوٹ تھا۔ جب میں سکول جانے کی عمر کا ہوا تو میری ماں نے ایک گارمنٹس کی فیکٹری کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔۔اور گھر گھر جا کر گارمنٹس بیچتی۔۔۔سردی کی ایک رات جب بارش بھی زوروں پر تھی۔۔میں ماں کا انتظار کر رہا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔میں انھیں ڈھونڈنے کے لیے آس پاس کی گلیوں میں نکل گیا۔۔دیکھا تو وہ لوگوں کے دروازوں میں کھڑی سامان بیچ رہی تھی۔۔۔میں نے کہا ماں! اب بس بھی کرو ۔۔تھک گئی ہوگی ۔۔سردی بھی بہت ہے۔۔ٹائم بھی بہت ہو گیا ہے [...]
