سیکنڈوں میں چارج ہونے والی بیٹری

اگر آپ میری طرح ہیں، تو آپ ہر وقت اپنے الیکٹرانکس کی بیٹریوں کے اہم موقعوں پر اچانک سےختم ہو جانے پر پریشان ہوتے ہوں گے۔ لیکن اب لگتا ہے کہ ہم جیسے لوگوں کے لیے ایک نئی امید کی کرن جاگی ہے۔ امریکہ کے کچھ تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک ایسا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے جس کے ذریعے آپ اور میں اپنی بیٹریوں کو گھنٹوں کے بجائے سیکنڈوں میں چارج کر سکیں گے۔ اس دریافت کی بدولت مستقبل میں سیل فونز اور دیگر الیکٹرانکس کی بیٹریاں چھوٹی اور ہلکی ہوتی چلی جائیں گی۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ لیتھیم بیٹریز اپنے اندر بہت توانائی رکھتی ہیں، لیکن انہیں چارج اور ڈس چارج ہونے میں کافی وقت لگتا ہے۔ پانچ سال پہلے تک سائنس دانوں کا خیال تھا کہ بیٹری کے اندر توانائی رکھنے والے آئن اور الیکٹران بیٹری کو بنانے کے لیے استعمال کیے جانے والے مَواد میں تیزی سے نہیں گزر پاتے تھے، جس کی وجہ سے بیٹریوں کو چارج کرنے میں بہت وقت درکار ہوتا تھا۔ لیکن پھرایم آئی ٹی کے کچھ تحقیق دانوں نے یہ بات دریافت کی کہ اگر بیٹری کو بنانے کے لیے لیتھیم آئرن فاسفیٹ استعمال کیا جائے، تو اس میں لیتھیم آئن بہت تیزی سے حرکت کر سکتے ہیں۔ بیٹری کی سطح کو بدل کر یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا ہے، کہ آئن کے راستے میں کوئی رکاوٹ بھی نہ آئے۔ نتیجتاً، ایک ایسی بیٹری سامنے آئی ہے جو بیس سے تیس سیکنڈ میں پوری طر ح چارج کی جا سکتی ہے۔ اور اس کو ایجاد کرنے والے سائنس دانوں میں سے ایک ہیرٹ سیڈرکہتے ہیں کہ اس بیٹری سے لوگوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل جائیں گی۔
اگرچہ یہ نئی بیٹریاں بہت جلدی سے چارج ہوتی ہیں، فی۱لحال ایک چھوٹے سے مسئلے کو دور کرنے کی ایم آئی ٹی کے سائنس دان کوشش کر رہے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ یہ بیٹریاں پرانی بیٹریوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ڈس چارج بھی ہوتی ہیں، جس کے باعث انہیں زیادہ بار ری چارج کرنا پڑتا ہے۔  لیکن مسٹر سیڈر بتاتے ہیں کہ ان نئی بیٹریوں میں پرانی کی طرح ڈی گریڈیشن نہیں ہوتی، جس کا مطلب ہے کہ یہ بیٹریاں لمبا عرصہ چلیں گی۔ ایم آئی ٹی کے سائنس دان اس لئے اب ایسی بیٹریوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں توانائی دیر تک ٹہرںے گی۔ مسٹر سیڈر کا کہنا ہے کہ یہ بات بیٹری بنانے والوں پر منحصر ہے کہ وہ کب یہ نئے ماڈل کی بیٹریاں بنانا چاہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر بیٹری بنانے والی کمپنیاں چاہیں تو وہ بڑی آسانی سے نئی ٹیکنالوجی موجودہ میٹری سیلز میں ڈال سکتی ہیں۔ کیونکہ لیتھیم آئرن فاسفیٹ بنانے کا لائسنس ایک بڑے سپلایئر کو دے دیا گیا ہے۔ اس لیے اس آپریشن کو بڑھا کر کمرشل لیول سیلز پر ٹیسٹ شروع کیے جا سکتے ہیں۔
مسٹر سیڈرکے مطابق یہ ریپڈ ری چارج بیٹریز عام لوگوں تک، دو سے تیں سال میں پہنچائی جا سکتی ہیں، اور ان کا استعمال کئی   الیکٹرانک اشیا میں ہوسکتا ہے۔

 

گیتی حسین  ( واشنگٹن ) وائس آف امریکہ





کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

تبصرہ کیجئے !



کوئی ٹریک بیک / پنگ بیک نہیں آیا۔

اپنی رائے کا اظہار کیجئے ۔۔۔

اپنے بلاگ پر آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ آپ نیچے دئیے گئے فارم کی مدد سے اپنی رائے شامل کر سکتے ہیں، اس بلاگ پر آپ کی آراء کا مکمل احترام کیا جائے گا۔ لیکن میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنی رائے دیتے ہوئے اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں گے۔ کوشش کیجئے گا کہ آپ کے الفاظ کسی فرد یا گروہ کی دل شکنی کا باعث نہ بنے۔

emoticons