نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
حسین دل ہے، حسین جان ہے
حسین قرآن کی زبان ہے
حسین سجدوں کی سرزمیں ہے
حسین خیالوں کا آسمان ہے
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
حسین زخموں بھری کہانی
حسین زخموں بھری جبیں ہے
حسیں عظمت کا آستاں ہے
اٹھا رہا ہے جو لاشہ اکبر
حسین بوڑھا نہیں جوان ہے
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
حسین ایمان کی جستجو ہے
حسین یزداں کی آبرو ہے
حسین تنہا تھا کربلا میں
حسین کا ذکر چار سو ہے
حسین کا حوصلہ نہ پوچھو
حسین لٹ کر بھی سرخرو ہے
وہ دیکھو فوجوں کے درمیاں بھی
حسین تنہا بھی ڈٹا ہوا ہے
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
حسین نکھرا ہوا قلندر
حسین بپھرا ہوا سمندر
حسین بستے دلوں کے آگے
حسین اجڑے دلوں کے اندر
خدا کی بخشش ہی خیمہ زن ہے
حسین کی سلطنت کے اندر
حسین آکاش کا نشیں ہے
حسین دھرتی کی آتما ہے
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
اپنے بلاگ پر آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ آپ نیچے دئیے گئے فارم کی مدد سے اپنی رائے شامل کر سکتے ہیں، اس بلاگ پر آپ کی آراء کا مکمل احترام کیا جائے گا۔ لیکن میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنی رائے دیتے ہوئے اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں گے۔ کوشش کیجئے گا کہ آپ کے الفاظ کسی فرد یا گروہ کی دل شکنی کا باعث نہ بنے۔
بہت عمدہ انتخاب ہے