کہ کرامات کرو ہو! ( وسعت اللہ خان۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد)

ذوالفقار علی بھٹو مجھے یاد ہے کہ سینتیس برس پہلے جب محمود علی قصوری اور عبدالحفیظ پیرزادہ جیسے قانونی ماہرین پر مشتمل کمیٹی کا مرتب کردہ آئینی مسودہ پارلیمنٹ میں بحث کے لئے پیش ہوا تو اسمبلی ہال میں امید کی فصل لہلہا اٹھی۔ہر کوئی متفقہ آئینی مسودہ تیار کرنے پر ایک دوسرے کومبارک باد دے رہا تھا۔ سول سوسائیٹی خوش تھی کہ بنیادی انسانی حقوق کے احترام اور بلا امتیازِ جنس و مذہب سب کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنے کی ضمانت دی گئی ہے۔مذہبی جماعتیں یوں خوش تھیں کہ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہا گیا ہے اور یہ بھی کہ شریعت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں ہوگی۔ قوم پرست اس لئے خوش تھے کہ دس برس بعد کنکرنٹ لسٹ ختم ہوجاتی اور صوبے مزید بااختیار ہوجاتے۔اپنے بل بوتے اور صلاحیت کی بنیاد پر ترقی پر یقین رکھنے والے اس لیے شاداں تھے کہ دس برس بعد تعلیم و ملازمت کا کوٹہ سسٹم ختم ہوجائے گا۔جمہو ریت پسند جشن منارہے تھے کہ آئین توڑنے یا اسکا یکطرفہ حلیہ بگاڑنے کی سزا موت ہے اور اب جمہوریت سے سنگین مذاق کرنے کا زمانہ لد چکا۔

سوائے ایک یا دو ارکانِ پارلیمان سب ہی نے آئینی مسودے پر خوشی خوشی دستخط کردئیے۔انکے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ یہ آئین بمشکل سات آٹھ گھنٹے ہی اپنی خالص شکل میں نافذ رہ سکے گا ۔

چودہ اگست انیس سو تہتر کو آئین نافذ ہوا اور پندرہ اگست کو ملک کے غیر معمولی حالات کے بہانےشہریوں کے آئینی حقوق معطل کردئیے گئے۔اور جب تک اس آئین کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت رہی ملک ایمرجنسی اور ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت ہی چلایا جاتا رہا۔

جب ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کرکے آئین معطل کیا تو تہتر کے آئین پر دستخط کرنے والے ولی خان ، شاہ احمد نورانی ، پروفیسر غفور احمد جیسے رہنماؤں پر مشتمل نو جماعتی قومی اتحاد نے مٹھائیاں تقسیم کیں۔ یوں ضیا الحق کو یہ کہنے کی جرات ہوئی کہ سیاستداں میرے ایک اشارے پر دم ہلاتے آئیں گے اور آئین کیا ہے چند صفحات کی ایک کتاب جسے جب چاہوں پھاڑ سکتا ہوں۔

دوسری بار جب پرویز مشرف نے تہتر کے آئین کو معطل کیا تو آئین کی خالق پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے بھنگڑے ڈالے اور پیپلز پارٹی کے ایک ٹوٹے ہوئے گروہ کے ساتھ ساتھ تہتر کی آئین ساز اسمبلی کے رکن چوہدری ظہور الہی کے صاحبزادے شجاعت حسین نے اپنے ہم نواؤں سمیت اور تہتر کے آئین سے بھی دو ہاتھ آگے صوبائی خودمختاری کا مطالبہ کرنے والی ایم کیو ایم نے مرکز پسند جنرل مشرف کو اعتماد کی بیساکھیاں فراہم کیں۔اور تہتر کے آئین پر دستخط کرنے والی جماعتِ اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام کی نئی پود نے متحدہ مجلسِ عمل کے نام سے اس آئین کو مشرف با مشرف کرنے کے لئے ستہرویں ترمیم کی ڈولی اٹھائی۔

آج وہ تمام جماعتیں جنہوں نے اوریجنل آئین پر دستخط کرنے کے بعد یا تو خود اس کا حلیہ بگاڑنے کی کوشش کی یا حلیہ بگاڑنے والوں کا اعلانیہ اور پوشیدہ ساتھ دیا۔تہتر کے آئین کو آمرانہ ادوار کی تمام آلائشوں اور بدعتوں سے پاک کرکے اٹھارویں آئینی ترمیم کے مسودے کو متفقہ طور پر مرتب کرنے میں سرگرم ہیں۔

تو کیا یہ کہا جائے کہ صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ رہا ہے یا پھر یہ کہا جائے کہ

دامن پے کوئی چھینٹ نہ خنجر پے کوئی داغ
تم قتل کرو ہو ، کہ کرامات کرو ہو !

ماخذ: بی بی سی اردو قلم اور کالم





کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

تبصرہ کیجئے !



کوئی ٹریک بیک / پنگ بیک نہیں آیا۔

اپنی رائے کا اظہار کیجئے ۔۔۔

اپنے بلاگ پر آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ آپ نیچے دئیے گئے فارم کی مدد سے اپنی رائے شامل کر سکتے ہیں، اس بلاگ پر آپ کی آراء کا مکمل احترام کیا جائے گا۔ لیکن میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنی رائے دیتے ہوئے اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں گے۔ کوشش کیجئے گا کہ آپ کے الفاظ کسی فرد یا گروہ کی دل شکنی کا باعث نہ بنے۔

emoticons