اگر وہ میثاقِ پاکستان پر آمادہ ہوں۔اگرماضی کے جرائم پر وہ معافی مانگ لیں ۔کم ہی ہوتا ہے، ایسا کم ہی ہوتاہے۔ تاریخ یہ کہتی ہے کہ اندھے اور بہرے ،مفاد پرستوں کے گروہ اپنے راستے پر بگٹٹ بھاگتے چلے جاتے ہیں، حتیٰ کہ تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال دئیے جاتے ہیں۔
بالاخر سیاستدان عمران خاں سے ملاقات ہو گئی۔ ایبٹ آباد میں سنا اور دیکھ لیاکہ خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر رہی ہے۔ خان نے بار بار کہا کہ 2نومبر کی دوپہر ، پشاور کے نشتر ہال میں ، میں ایک حیران کن منظر دیکھنے سے محروم رہا۔" آگ لگی تھی ، چاروں طرف آگ لگی تھی" اس نے کہا۔ سیاسی رہنما خوش فہمیوں کی جنت آباد کیا کرتے ہیں لیکن پھر پارٹی کے بڑ بولے رہنما شاہ فرمان اور دوسروں نے تفصیل بتائی ۔ ڈیڑھ ہزار نشستوں کے ہال میں چار ہزار طالب علم جمع ہوئے، حتیٰ کہ دم گھٹنے لگا۔ انتظام دھرے کا دھرا رہ گیا اور کپتان کو خود ہی سٹیج سیکرٹری بننا پڑا۔ فرطِ جذبات سے نوجوان پاگل تھے ۔
مفاہمت نہ سکھا جبرِ ناروا سے مجھے
میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے
وہ کچھ بھی کر گزرتے ۔ کپتان نے مگر نظم و ضبط میں ڈھلنے کی تلقین کی اور یہ کہا کہ پائیدار تبدیلی ہمیشہ جمہوری طریق سے آتی ہے۔ شاہ فرمان نے ، ادھیڑ عمری کی دہلیز پر ، جو خود بھی نوجوانوں کا سا جوش و خروش رکھتا ہے ، یہ کہا : جلسوں اور ریلیوں کے لیے ہمیں روپیہ خرچ کرنا پڑتا تھا ۔ اب کی بار کسی نے کوئی تقاضا نہ کیا۔ طالب علم ڈیرہ اسمٰعیل خان، ہزارہ اور کوہستان تک سے آئے۔خود ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیا۔ خان نے پھر، اسی شام نوشہرہ میں ممتاز شخصیات کے اجتماع کی روداد سنائی۔ تبلیغی جماعت کے معززین نے ، سیاست کی بجائے فلاحی منصوبوں کے لیے یکسوئی کا مشورہ دیا تو وہ پھٹ پڑا۔ "خلقِ خدا بھوک سے مر تی ہے "اس نے کہا"اور آپ لوگ یہ کہتے ہیں کہ میں لاتعلق رہوں ۔جس آدمی کا پیٹ خالی او ربچہ بیمار ہے، کیا میں اسے نماز روزے کی تلقین کروں؟" کپتان کو اس روز ایسے نظریاتی لیڈر کے طور پر دیکھا گیا، جوشِ کردار سے جو ہجوم کا رجحان بدلنے پہ قادر ہو جاتا ہے۔ تبلیغی جماعت کے کچھ لوگوں نے مستقل طور پر تحریک ِ انصاف کے لیے کام کرنے کا اعلان کر دیا۔ اب کپتان نے لاہور کے سب سے بڑے کلب میں ہونے والے کاروباری لوگوں کے ایک اجلاس کی داستان سنائی۔ یہاں بھی ایک خاتون نے ساری توانائی تعلیم کے لیے وقف کرنے کا مشورہ دیا تو اس کا جواب یہ تھا: ارسطو نے کہا تھا، معاشرہ جب روبہ زوال ہو تو ہر شخص کو سیاست میں حصہ لینا چاہئیے۔ صرف بزدل لوگ ہی ایسے میں الگ رہ سکتے ہیں"غیر سیاسی تو صرف جانور ہوتے ہیں "ا س نے چلّا کر کہا "بھیڑیا ایک ہرن کو لے جاتا ہے اور جان بچانے کے لیے باقی اپنی راہ لیتے ہیں"ایبٹ آباد میں عجب ماجرا ہوا۔ ایوب میڈیکل کالج میں ، اسے عمران خاں ویلفئیر آرگنائزیشن کی تقریب سے خطاب کرنا تھا۔ ڈاکٹروں کی تنظیم ، جس نے سیلاب کے 60دنوں میں 71کیمپ لگائے۔ پارٹی کارکنوں نے مگر استقبال کا فیصلہ کیا۔ خود اسے گریز تھا۔ پارٹی یہاں دو دھڑوں میں بٹی ہے اور بدمزگی کا اندیشہ تھا، جو درست ثابت ہوا۔ اوّل شہر کی ابتدا میں استقبال ہوا اوریہ حیران کن تھا۔ ایک ڈیڑھ کلومیٹر آگے لیکن پھر ایک اور ہجوم نے روک لیا۔ مطالبہ یہ تھا کہ فلاں مقام پر انہوں نے جلسے کا بندوبست کیا ہے اور اسے جانا ہوگا ۔ ہجوم کا لیڈر آگے بڑھا اورچیخ کر اس نے اعلان کیا "اگر آپ نہیں جاتے تو میں خود کو گولی مار لوں گا۔" خان نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن ہیجان بے حساب ۔ کشمکش کے دس منٹ گھنٹوں پر محیط لگے ، مگروہ آسودہ رہا۔ "عجیب لوگ" اس نے کہا"جذبات سے پاگل ہوئے جاتے ہیں اور نظم و ضبط کی اہمیت سے بے خبر ہیں " ماتھے پر بل نہ پریشانی ، برہمی نہ کسی شخص کو قصور وار ٹہرانے کی کی روش ۔ یہ تھا ، سیاستدان عمران خاں، مشکلات میں جس نے جینا سیکھ لیا ہے۔ بحران اور صدموں میں ، جس کا مزاج استوار رہتا ہے اور قوت فیصلہ برقرار۔ گاڑی میں بیٹھے لیڈروں سے ، جو شور مچاتے گروہ سے ناراض تھے، اس نے یہ کہا: صبر سے کام لو بھائی، صبر سے ، صوبے کی قیادت جو مسئلہ حل نہ کر سکی، اب مرکز کی ایک کمیٹی کرے گی ۔ پھر ایسی شائستہ آواز میں، جسے اطاعت کا یقین تھا، اس نے گاڑی کا رخ موڑنے کا حکم دیا۔ واضح اور قطعی۔ یہ تھا منتظم عمران خاں۔دوسرے مقام پر ہجوم زیادہ تھا۔ کچھ لوگوں کو البتہ بڑبڑاتے سنا گیا کہ ان میں ہزارہ تحریک اور قاف لیگ والے بھی شامل ہیں۔ بعض مقامی شہریوں نے بتایا کہ ایک موقع پرست ان کا لیڈر ہے ۔ کپتان نے لیکن یہ کہا : ایک بھی مخلص کارکن ضائع نہیں کیا جا سکتا ۔معاملات مکالمے سے طے پائیں گے۔ الوداع کے ہنگام ایک ممتاز کارکن کو تلقین کی: اللہ کے آخری رسول کا فرمان یہ ہے کہ طاقتور وہ ہے جو غصّے کو پچھاڑ سکے۔
ایوب میڈیکل کالج کی تقریب یادگار تھی۔ اور بھی شاندار ہوتی ، ہال میں در آنے والے سینکڑوں کارکن اگر عوامی جلسہ نہ بنا ڈالتے۔ اوّل عمران خاں پر بنائی گئی،دنیا کے سب سے مقبول چینل کی دستاویزی فلم دکھائی گئی۔ تین سال پہلے، اتفاق سے اس فلم کی تخلیق کے دوران میں وہیں تھا۔ آج بھی وہ منظر نگاہ میں ہے کہ فلم کی جواں سال ڈائریکٹر ، میانوالی میں ایک تالاب کے کنارے پھوٹ پھوٹ کر روتی رہی۔ گاؤں کی عورتوں نے مہمان کو رنگ برنگے پھولوں والی ایک چادر پیش کی اور دسترخوان بچھایا۔ جذبات پر وہ قابو نہ رکھ سکی ۔ آنسو چھپانے کے لیے بے تاب ہو کر باہر نکلی اور بڑبڑائی "کیا یہی وہ لوگ ہیں، بش اور بلئیر جنہیں دہشت گرد کہتے ہیں؟" جب بھی کوئی عالمی ادارہ پاکستان سے نمائندہ شخصیت کا انتخاب کرنا چاہے، کپتان پہ آٹہرتی ہے۔ مہاتیر محمد اسے عزیز رکھتے ہیں۔ برطانیہ کی ایک یونیورسٹی کا وہ چانسلر ہے اور ایک بین الاقوامی بینک نے سیلاب زدگان کے لیے اسے 26کروڑ روپے کا عطیہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تالیوں کی بے پناہ گونج میں وہ اٹھا اور اس نے یہ کہا: جس کام کی آپ نے ابتدا کی ہے، باقی رہا تو انقلاب آئے گا۔ دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو دوسروں کے لیے جیتے ہیں اور دوسرے اپنے لیے ۔ ہجوم یکسو اور ہم آہنگ ہوتا گیا۔ اس کی اعتماد سے بھری آوازبلند ہوتی گئی ۔اب وہ ایک اکائی تھے۔ گونجتی ہوئی ایک صدا جو آنے والی صبح کی شناخت تھی۔پاکستان کے درو بام پر یہ سویر کب اترے گی۔تب یہ سوال نہ تھا، صرف ایک بے پناہ امید۔صرف ایک بے پناہ امنگ۔ کوئی چیز ، کوئی بھی چیز منوّر مستقبل کے سپنے سے زیادہ حسین نہیں ہوتی ۔شام ہونے کو آئی اور دوپہر کے کھانے کا وقت گزرا جارہا تھا، منتظمین کی سمجھ میں یہ نہ آتا تھا کہ اس طوفان کا علاج کیسے کریں۔ بالاخر اعلان ہوا کہ سامعین اپنی سیٹوں پہ تشریف فرما رہیں، ہسپتال کا معائنہ کرکے عمران ابھی آتے ہیں۔جلسوں، جلوسوں اور ریلیوں میں ، بار بار اس نے یہ کہا :مہنگائی اور کرپشن کے خلاف جلد میں احتجاج کی اپیل کروں گا۔مجھے لگا کہ لاکھوں نوجوانوں کے ساتھ ، اسلام آباد کا اس نے ارادہ کر لیا ہے۔ یہ راز مگر اس نے کھولا نہیں۔
اگر وہ میثاقِ پاکستان پر آمادہ ہوں۔ماضی کی غلطیوں پہ اگر وہ معافی مانگ لیں ۔کم ہی ہوتا ہے، ایسا مگرکم ہی ہوتاہے۔ تاریخ یہ کہتی ہے کہ اندھے اور بہرے ،مفاد پرستوں کے گروہ اپنے راستے پر بگٹٹ بھاگتے چلے جاتے ہیں، حتیٰ کہ تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال دئیے جاتے ہیں۔

[...] This post was mentioned on Twitter by M Kashif Majeed, M Kashif Majeed. M Kashif Majeed said: Article : : اور یہ ہے سیاست دان عمران خان..ناتمام…ہارون الرشید http://www.mkmajeed.com/imran-khan-politician-by-haroon-raheed.htm [...]