ایک تازہ ترین جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ کھیل کے دوران پیئے جانے والے مشروبات اگرچہ توانائی میں اضافہ تو کرتے ہیں لیکن ان سے آپ کے دانتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ نیویارک یونیورسٹی کے دانتوں کے ماہرین کی اس تحقیق کے نتائج انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار ڈینٹل ریسرچ میامی میں پیش کیے گئے اور انہیں ویب ایم ڈی پر شائع کیا گیا۔ اس تحقیق کے نتائج کے مطابق فوری توانائی فراہم کرنے والے اور کھلاڑیوں کی قوت میں اضافہ کرنے والےمقبول مشروبات میں تیزابی اجزا کی زیادتی سے دانت کمزور ہوسکتے ہیں، ان کی حساسیت بڑھ سکتی ہے اور ان پر دھبے پڑسکتے ہیں۔علاوہ ازیں یہ مشروبات دانتوں کے اندورنی حصوں کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔
نیویارک یونیورسٹی کے کالج آف ڈینٹسٹری کے پروفیسر ڈاکٹر مارک ولف جو ڈپارٹمنٹ آف کارڈیالوجی اینڈ کمپری ہنسو کے چیئر مین بھی ہیں،کہتے ہیں کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کھلاڑیوں کے مشروبات میں موجود سٹرک ایسڈ کو دانتوں کو پہنچنے والے نقصانات سے منسلک کیا گیا ہے۔
ان کا کہناہے کہ جو لوگ کھیل کے دوران ان توانائی بخش مشروبات کا استعمال کرتے ہیں ، انہیں چاہیے کہ مشروبات پینے کے فوراً بعد دانتوں کو برش نہ کریں کیونکہ ان مشروبات میں پایا جانے والے مخصوص تیزابی اجزا، ٹوسٹ پیسٹ میں موجود کچھ اجزا کے ساتھ مل کردانتوں کے انیمل کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔
ڈاکٹر ولف کہتے ہیں کہ دانتو ں کو ان مشروبات کے نقصان دہ اثرات سے بچانے کے لیے ان چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
ان مشروبات کا استعمال اعتدال سے کیا جائے۔ مشروبات کے استعمال کے بعد کم ازکم 30 منٹ تک دانتوں پر برش نہ کیا جائے۔ اگرآپ ان مشروبات کی بہت زیادہ مقدار پی لیں تو اپنے دانتوں کے معالج سے پوچھیں کہ اس مخصوص تیزابی مادے کے مضر اثرات سے بچاؤ کے لیے آپ کوکیا کرنا چاہیے۔
ایک اور مطالعاتی جائزے میں سپورٹس کے پانچ مشروبات کو ٹیسٹ کیا گیا ان میں وٹامن واٹر، لائف واٹر، گیٹوریڈ ، پاور ایڈ اور پروپیل فٹ واٹر شامل تھے ۔ اس تجربے کے لیے انسانی دانتوں کی بجائے گائے کے دانتوں کو استعمال کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ گائے کے دانت انسانی دانتوں سے بہت زیادہ ملتے جلتے ہیں۔ گائے کے دانتوں کو آدھا کاٹا گیا ۔ ان کٹے ہوئے دانتوں میں نصف کو سپورٹس کے مشروبات میں دبو کررکھا گیا۔ جب کہ باقی نصف کو پانی میں ڈال دیا گیا اور اس کے بعد ان کا آپس میں موازنہ کیا گیا۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ ان پانچوں مشروبات سے دانت کمزور ہوئے لیکن گیٹوریڈ اور پاور ریڈ سے دانتوں کے کمزور ہونے کے ساتھ ان پر نمایاں دھبے بھی ظاہر ہوئے۔ امریکن بیوریج ایسوسی ایشن کے ترجمان کریگ سٹیونز کہتے ہیں کہ اس طرح کے مطالعاتی جائزے ، غیر منصفانہ ہیں اور یہ سپورٹس کے مشروبات پینے کے انداز کے بارے میں زیادہ صحیح اور حقیقی تصویر پیش نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طریقے یہ تجربے کیے گئے ہیں وہ حقیقی زندگی کے تناظر سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کا کہناہے کہ مشروبات دانتوں کو چھوئے بغیر سیدھے حلق میں چلے جاتے ہیں اور ان مشروبات کا ایک مقصد ہوتا ہے اور ان سے یہ ثابت ہوچکاہے کہ وہ جسمانی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔
ماخذ: وائس آف امریکہ
اپنے بلاگ پر آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ آپ نیچے دئیے گئے فارم کی مدد سے اپنی رائے شامل کر سکتے ہیں، اس بلاگ پر آپ کی آراء کا مکمل احترام کیا جائے گا۔ لیکن میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنی رائے دیتے ہوئے اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں گے۔ کوشش کیجئے گا کہ آپ کے الفاظ کسی فرد یا گروہ کی دل شکنی کا باعث نہ بنے۔
کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
تبصرہ کیجئے !